بنگلورو،26فروری(ایس او نیوز) بٹلہ ہاؤس، عشرت جہاں اور سہراب الدین فرضی انکاؤنٹرسمیت بھاگلپور، ہاشم پورہ۔ملیانہ، مظفرنگر، میرٹھ، ممبئی اور گجرات فسادات کا سچ کب سامنے آئے گا ،مجرموں کو کب کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ،اس کی کوئی نہ تاریخ متعین کی جاسکتی ہے اور نہ دراز مدت کے بعد اس معاملہ میں اب کوئی انصاف کی امید ہے ۔
سہراب الدین انکاؤنٹر ،ان کی بیوی کوثر بی اور ان کے ساتھ پرجاپتی کی موت کے ثبو ت کو پیش کرنے کیلئے عدالت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے لیکن سی بی آئی کے پاس ابھی تک ایک ہی بہانہ ہے کہ اس کے پاس فلاں ثبوت کا پیپر نہیں ہے۔اس میں ابھی وقت لگے گا۔اس کے برخلاف اس معاملہ میں ملزم قرار دئے گئے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سمیت تمام افسران ایک ایک کرکے بری ہوتے جارہے ہیں ۔ایسے میں سوال کا اٹھنا ضروری ہے۔کیا سی بی آئی پوری طرح بک چکی ہے ؟وہ مکمل ثبوت عدالت میں پیش کیوں نہیں کر رہی ہے؟ ۔
سہراب الدین انکاونٹر اس وقت ہوا تھا جب امیت شاہ گجرات کے وزیر داخلہ تھے۔ اس معاملے میں ان کو جیل بھی ہوئی تھی اور انھیں گجرات سے تڑی پار بھی کر دیا گیا تھا۔ وہ بہت دنوں تک گجرات نہیں جا سکے تھے۔ عدالت نے ان پر یہ پابندی اس لیے لگائی تھی کہ وہ گواہوں کو متاثر نہ کر سکیں۔سہراب الدین انکاؤنٹر کی سماعت کررہے جسٹس وی ایچ لویا کی موت بھی مشتبہ ہے ، جس پر ان کی بہن اور ان کے والد نے آواز بھی اٹھائی تھی، کہاجارہاہے کہ جسٹس لویا عنقریب سہراب الدین انکاؤنٹر پر فیصلہ سنانے والے تھے اور اس میں قیاس لگایا گیاتھا کہ امیت شاہ ہی مجرم ہیں لیکن اسی دوران ان کی موت ہوجاتی ہے۔لویا کی موت کے ایک مہینے کے بعد ہی امیت شاہ بری ہوجاتے ہیں۔
آج صورت حال اس سے بالکل مختلف ہے۔ آج تو نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں اور امیت شاہ برسراقتدار جماعت کے صدر اور رکن راجیہ سبھا ہیں۔ جب ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ یا وزیر داخلہ بہت کچھ کر سکتا ہے تو پھر ایک وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کا صدر کیا کیا نہیں کر سکتا۔گزشتہ دنوں سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹرمعاملے میں پولیس افسروں کو بری کرنے کو چیلنج دینے والی عرضی پر روزانہ سماعت کے تقریباً دو ہفتہ بعد ممبئی ہائی کورٹ نے کہا کہ سی بی آئی عدالت کی مناسب مدد نہیں کر پا رہی ہے، جس کی وجہ سے اس پورے معاملے کو لیکر ابتک وضاحت نہیں ہے۔معاملے کی سماعت کر رہی جسٹس ریوتی موہتے ڈیرے نے کہا کہ سی بی آئی بری کئے گئے لوگوں کے خلاف تمام ثبوتوں کو ریکارڈ پر رکھنے میں ناکام رہی۔جسٹس نے کہا، ‘ الزام لگانے والی ایجنسی کا یہ پہلا فرض ہے کہ وہ عدالت کے سامنے تمام ثبوتوں کو رکھے، لیکن اس معاملے میں عدالت کے ذریعے کئی بار پوچھنے پر بھی سی بی آئی نے صرف انہی دو افسروں کے کردار کے بارے میں بحث کی جن کو بری کرنے کو اس نے چیلنج دیا ہے۔ جسٹس ڈیرنے کہاکہ استغاثہ فریق کے پورے معاملے کو لیکر ابھی بھی دھندلاپن ہے کیونکہ مجھے سی بی آئی کی طرف سے مناسب مدد نہیں مل رہی۔عدالت نے اب سی بی آئی کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی آرپی سی کی دفعہ 164کے تحت درج کئے گئے تمام گواہوں کے بیانات کی جانکاری پیش کرے۔ معاملے میں سماعت 9 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ تب سے عدالت نے جب بھی چارج شیٹ، گواہوں کے بیان، معاملے سے متعلق خط جو ضبط کئے گئے ہیں، ایسی کوئی بھی دستاویز مانگی تب سے سی بی آئی نے بار بار یہی کہا کہ اس کے پاس یہ کاغذات نہیں ہیں۔ ایجنسی نے دستاویز جٹانے کے لئے وقت مانگا۔
واضح ہو کہ کورٹ گجرات کے سابق ڈی جی پی ڈی جی ونجارا، راجستھان کے پولیس افسر دنیش ایم این اور گجرات پولیس کے افسر راج کمار پانڈین کو بری کئے جانے کو لیکر سہراب الدین کے بھائی رباب الدین شیخ کی طرف سے داخل تین عرضیوں کی سماعت کر رہا ہے۔ساتھ ہی عدالت سی بی آئی کے ذریعہ راجستھان پولیس کے کانسٹیبل دلپت سنگھ راٹھوڑ اور گجرات پولیس کے افسر این کے امین کو بری کرنے کے خلاف دو عرضیوں پر بھی سماعت کر رہی ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق جسٹس موہتے ڈیرے نے کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ کس بارے میں ہے، ان کو اس بارے میں ابتک مطلع ہی نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سی بی آئی ابتک صرف محدود پوائنٹس پر ہی بات کر رہی ہے۔سہراب الدین اور کوثر بی کو گجرات پولیس نے نومبر2005میں مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں مار گرایا تھا، جبکہ ان کے مددگار تلسی رام پرجاپتی کو گجرات اور راجستھان پولیس نے دسمبر 2006میں ایک دیگر مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا تھا۔سی بی آئی نے اس معاملے میں38 لوگوں کو ملزم بنایا تھا۔ ان میں سے15 کو اگست2016 سے ستمبر2017 کے درمیان ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے بری کر دیا تھا۔
روزنامہ انڈین ایکسپریس سے ہوئی بات چیت میں تھپسے نے کہا کہ معاملے میں کئی طرح کی گڑبڑی ہے، جس سے لگتا ہے کہ معاملے کے گواہ دباؤ میں ہیں۔تھپسے نے بھی ممبئی ہائی کورٹ میں اس معاملے سے جڑی4ضمانت عرضیوں پر سماعت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کو خود جانکاری لیکر معاملے کی دوبارہ سماعت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کے ایسے کئی پہلو ہیں جو عام سمجھ سے باہر ہے۔ تھپسے نے کہاکہ آپ یہ مانتے ہیں کہ اس کا (سہراب الدّین) اغوا ہوا تھا۔ آپ یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔ آپ کو اس بات پر بھی اعتماد ہے کہ اس کو غیرقانونی طریقے سے فارم ہاؤز میں رکھا گیا تھا۔ پر آپ یہ نہیں مانتے کہ اس میں ونجارا (اس وقت کے ڈی آئی جی، گجرات)، دنیش ایم این (اس وقت کے ایس پی، راجستھان) یا راج کمار پانڈین (اس وقت کے ایس پی، گجرات) شامل تھے۔ کسی کانسٹیبل یا انسپکٹر سطح کے پولیس اہلکار کا سہراب الدّین سے کوئی رابطہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک سب انسپکٹر سہراب الدّین کو حیدر آباد سے اٹھا کر دوسری ریاست میں لے آیا؟ وہیں اسی بنیاد پر آپ کہتے ہیں کہ دونوں ایس پی (پانڈین، دنیش) کے خلاف کوئی معاملہ نہیں بنتا۔ تو شک اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ سینئر افسروں سے الگ رویہ رکھا گیا۔ ‘انہوں نے کہا کہ ان احکام کی مناسب منچ پر تجزیہ کئے جانے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ہائی کورٹ کو بھی اس پر توجہ دینی چاہیے۔معلوم ہو کہ اس معاملے میں گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امیت شاہ، راجستھان کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ، گجرات اور راجستھان پولیس کے کئی اعلیٰ افسروں سمیت 38 ملزم تھے، جن میں سے15کو بری کیا جا چکا ہے۔وہیں نومبر 2017 سے سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں چل رہی سماعت میں ابتک30گواہ اپنے بیان سے پلٹ چکے ہیں۔اتنی مدت گزرجانے کے بعد ثبوتوں میں کس طرح سے چھیڑ چھاڑ ہوئی ہو گی ،یہ تو آپ تمام جانتے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ سالاربنگلورو)